ٹی وی اور اسمارٹ فون بچوں کی ذہنی صحت کے دشمن ہیں

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ پانچ سال کی عمر میں ، جو بچے طویل عرصے تک ٹی وی ، اسمارٹ فونز یا ٹیبلٹ پر کارٹون دیکھتے ہیں وہ متعدد نفسیاتی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

18 ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو یہ دیکھنے کے لئے مشاہدہ کیا گیا کہ ٹیلی ویژن اور اسمارٹ فونز کا روزانہ استعمال ، ان کے موڈ کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق ، 18 ماہ کے بچوں میں سے 23٪ اور پانچ سالہ بچوں میں سے 95٪ ان آلات کے سامنے ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ یہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ حد سے زیادہ ہے۔

ماہرین نے دریافت کیا کہ جو بچے ٹی وی ، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ اسکرینوں پر کارٹون دیکھنے میں بہت زیادہ وقت صرف کرتے ہیں ان میں طرح طرح کے نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر:

• خراب رویہ
• خوف
• بےچینی
• ذہنی دباؤ

بچوں پر اسمارٹ فونز کے برے اثرات:

تعلیمی کارکردگی:

بہت سے طلباء اپنے فون اسکول لے کر جاتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ چیٹ کرنا یا ریسس کے دوران یا یہاں تک کہ کلاس میں بھی گیمز کھیلنا زیادہ عام ہوتا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، بچے کلاس میں توجہ دینے میں ناکام رہتے ہیں اور اہم اسباق سے محروم رہتے ہیں۔

طبی امور:

بچے ، جو موبائل یا ٹی وی پر اپنا فارغ وقت صرف کرتے ہیں ، وہ جسمانی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہی کافی حد تک تازہ ہوا حاصل کرتے ہیں۔ اس سے وہ موٹاپا اور دیگر عوارض کا خطرہ مول رکھتے ہیں ، جو ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر سمیت خطرناک بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق بہت قابل قدر ہے کہ ، جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے ، ہر عمر کے بچے اور بالغ بڑے پیمانے پر اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹ استعمال کررہے ہیں۔

محققین کے مطابق ، والدین کو اپنے بچوں کو کمپیوٹر ، اسمارٹ فونز یا ٹیبلٹ اسکرینوں کے سامنے زیادہ وقت گزارنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے اور اس کے بجائے انہیں دیگر سرگرمیوں کے لئے زیادہ مواقع فراہم کرنے چاہئے تاکہ وہ کم عمری میں نفسیاتی امور سے بچ جائیں۔

اگر آپ یہ بلاگ انگریزی میں پڑھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں