اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اردو کو فروغ اور ملکی ترقی کو خوش آمدید

اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک کثیر النسل، کثیر الثقافتی، اور کثیر المزاہب ملک ہے۔ نسلی اور ثقافتی بنیادوں پر پاکستان پنجابی، پشتون، سندھی، سرائیکی، بلوچی، کشمیری، کیلاشی، چترالی، ہزارہ، شینا، بلتی اور دیگر نسلوں کی آماجگاہ ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان میں اردو کے علاوہ 74 کے قریب بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، سرائیکی، گجری، ہندکو، بروہی، کشمیری سرفہرست ہیں۔ لیکن پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور قائداعظم محمد علی جناح نے اردو کا پاکستان کا قومی زبان قرار دیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مختلف جہتوں میں تنوع پر امریکہ کے ایک مشہور سکالر اناتل لیون نے ایک کتاب “Pakistan a hard country” لکھی تھی۔ اناتل لیون نے پاکستان میں 20 سال کا عرصہ گزارا تھا اور یہاں کی سیاست، ثقافت، اور معاشرے کا انتہائی باریک بینی سے غیر جانبدارانہ تجزیہ لکھا تھا۔ پاکستان میں تنوع پر اناتل لیون نے لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں ایک پہیہ کے اندر دوسرا پہیہ ہے، یعنی اگر کوئی پنجابی ہے تو وہ سید، جاٹ، راجپوت، چوہدری، وغیرہ بھی ہے جسکی وجہ سے معاشرہ میں تقسیم ہے۔ یوں بقول مصنف کے پاکستان مختلف نسلوں، ثقافتوں، اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کی ایک انجمن ہے۔

لیکن اگر ہم جنوبی ایشیاء کی ریاستوں پر ایک سرسری نظر دوڑائیں تو یہ تنوع ہر ملک کے ہر گوشے میں اظہر من الشمس ہے۔ اپنے ہمسایہ بھارت کی مثال لے لیں۔ ہندو ٹائمز کے ایک اندازے کے مطابق بھارت میں 19،500 مادری زبانیں بولی جاتی ہیں، لیکن بڑی اور مشہور زبانیں 22 ہیں۔ اس طرح سری لنکا میں بھی مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یوں جنوبی ایشیا پورا ہی مختلف اقوام، مذاہب اور ثقافتوں کی آماجگاہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسوقت 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جبکہ سرکاری زبانیں انگریزی اور اردو ہیں۔ 1973 کے آئین میں یہ بات درج ہے کہ 15 سالوں کے اندر اندر وہ سارے انتظامی لوازمات پورے کئے جائیں گے جو پاکستان میں اردو کے نفاذ کو ممکن بناسکے۔ لیکن اب تک کسی بھی حکومت میں اردو کے نفاذ کی مخلصانہ کوشش نہیں کی گئی اور یوں انگریزی ہی کو ایک لحاظ سے برتری حاصل ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے امتحان سول سروسز پاکستان بھی انگریزی میں منعقد ہوتا ہے اور اردو کو بطور اختیاری مضمون لیا جاتا ہے۔ یوں اردو کا درجہ آج بھی دوسرے درجے کا ہے جو کہ ہمارا ایک قومی المیہ ہے۔

اردو کے علاوہ پاکستان میں اور زبانیں بھی بولی جاتی ہیں: زبانوں پر ایک مشہور ویب سائٹ ایتھنولاگ کے مطابق پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اسمیں 66 زبانیں مقامی ہیں اور 8 باہر ہیں۔ پاکستان میں 10 فیصد لوگ اردو بولتے ہیں؛ پنجابی 48 فیصد؛ 12 فیصد سندھی؛ 10 فیصد سرائیکی اور انگریزی؛ پشتو 8 فیصد؛ 3 فیصد بلوچی؛ 2 فیصد ہندکو اور ایک فیصد بروہی بولتے ہیں۔

یوں اسلامی جمہوریہ پاکستان مختلف زبانوں اور ثقافتوں کا ایک مسکن ہے۔ جب کوئی ملک اپنے اندر اتنی تنوع کو سمو لیتا ہے تو اس بات کی ضرورت پیش آتی ہے کہ تنوع کو بہترین طریقے سے مینج کیا جائے، اور ثمرات سے فائدہ اٹھایا جائے۔ یوں اس بات کی ضرورت ہے کہ ان زبانوں کی ترویج، اشاعت اور ان کے فروغ کیلیے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔ کیونکہ یہ تنوع پاکستان کی حسن کو چار چاند لگاتے ہیں اور پاکستان کو خوبصورت بناتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں